چنتامنی:22 /نومبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)کنکا داس ہمارے ملک کے عظیم مصلح دانشور اور شاعر تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی بقاء اور سماج میں تفرقوں کو مٹانے کے لئے وقف کردی تھی سماج میں پھیلی ہوئی ذات پات کی تفرقہ پازی کے وہ سخت خلاف تھے انہوں نے اپنی شاعری کو سماج کی اصلاح کا زریعہ بنالیا تھا ان کی پیدائش 1509میں ہوئی اور 1609میں انتقال کر گئے لیکن گزشتہ پانچ سو سالوں میں ان کی کارکردگی ہندوستانی سماج پر ایک احسان رہی ہے یہ بات رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کہی ۔ وہ یہاں قومی تہوار سمیتی تعلقہ انتظامیہ بلدیہ انتظامیہ کے زیر اہتمام شہر کے گور بھون کے احاطے میں منعقدہ کنک داس جینتی تقریب کا افتتاح کرنے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنکا داس جدید کرناٹک کے کنڑا شاعر جو اپنے کیرتن اور اگا بھوگا کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ایک اہم مقام پایا تھا انہوں نے ہری داس کی طرح آسان کنڑا میں لوگوں کو اپنی طرف اچھی طرح مائل کیا ان کانام تھیمیا نائک تھا اور وہ ہاویری ضلع بادا گاؤں سے تعلق رکھتے تھے کنکا داس یوں پیشہ سپہ گیری سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے اپنی شاعری میں اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ایک مرتبہ جب وہ جنگ بری طرح گھائل ہوئے اور کرشماتی طور پر بچ گئے تو انہوں نے قلم کی جنگ کا آغاز کیا اور سماج کی اصلاح اور تطہیر کاکام کیا اپنے کام اور مشن کیلئے وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کیا کرتے تھے اور اپنی سریلی موسیقی اور مدھ بھری گیتوں سے لوگوں اور سماج کی اصلاح کاکام کیا کرتے تھے ۔اس موقع پر بلدیہ صدر سجاتا شیونا نائب صدر سجاتا شیوپا کونسلر منجوناتھ تحصیلدار گنگپاتعلقہ پنچایتی صدر شنتما نائب صدر شرنیواس ریڈی وغیرہ موجود رہے ۔